بنگلور 6جنوری ( آئی این ایس انڈیا/ایس او نیوز ) کرناٹک میں حکمراں کانگریس حکومت نے اپوزیشن پارٹی بی جے پی کی طرف سے مسلم حمایت کی پالیسیوں کی وجہ سے فرقہ وارانہ تشدد کے واقعات میں ملزمان کے ساتھ مذہبی بنیاد پر امتیازی سلوک کے الزامات کو مسترد کردیا ہے۔ حکومت نے اعداد و شمار پیش کرتے ہوئے کہا کہ فسادات میں ہندوؤں سے زیادہ مسلمانوں کی گرفتاریاں ہوئی ہیں، جو اس بات کو واضح کرتی ہے کہ حکمراں کسی کی حمایت میں نہیں ہیں ؛ بلکہ آئین کی پاسداری میں مصروف ہیں ۔
ریاست کے وزیر داخلہ آر رام لنگا ریڈی نے بتایا کہ جب بات فرقہ وارانہ تشدد کی آتی ہے تو ہم کوئی تفریق نہیں کرتے اور نہ ہی کسی کی حمایت کرتے ہیں ۔3 سال میں فسادات میں کل 1254 لوگوں کوگرفتار کیا گیا۔ 2013 سے 2017 کے درمیان ہوئے فسادات میں کل 670 مسلمانوں کی گرفتاری ہوئی، جبکہ ہندوؤں کی تعداد 578 ہے۔ وہیں 6 عیسائیوں کی بھی گرفتاری ہوئی ہے۔بی جے پی کی طرف سے سیاسی فائدہ کے لئے فرقہ وارانہ تشددبھڑکانے اور مذہب خاص کے لوگوں کو تحفظ دینے کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے ریڈی نے کہا کہ ریاست میں ہونے والے اگلے اسمبلی انتخابات کے لیے بی جے پی اپنی پرانی فرقہ وارانہ پالیسیوں پر ہی چل رہی ہے۔
بی جے پی فسادات کی بات تو کرے گی، لیکن ہندو تنظیموں کی طرف سے فرقہ وارانہ تشدد کے واقعات اور اشتعال انگیز بیانات پر کوئی بات نہیں کرسکتی ہے ۔ بی جے پی ترجمان سی ٹی روی نے کانگریس پر الزام لگاتے ہوئے کہا کہ کانگریس نے 2015 میں اقلیتی تنظیم سے وابستہ 1614 ارکان کے خلاف درج 175 کیسوں کو واپس لے لیا۔ وہیں کانگریس نے اس کے تمام الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ جس کی تاریخ ہی فرقہ واریت کی رہی ہو وہ کس منھ سے فرقہ واریت کا الزام دوسرے پر لگار ہی ہے ، یوں لگتا ہے کہ وہ خود اپنی فطرت سے بری طرح نفرت کرنے لگے ہیں۔